زمرہ جات: تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

بچپن اور شباب

آپ ؒ کے بچپن کے ایک ساتھی جناب سیدنثار علی بخاری فرماتے ہیں :
’’بچپن کے حالات میں یہ بات بہت زیادہ اہم ہے کہ قلندر بابا ؒ کی کبھی کسی سے لڑائی نہیں ہوئی اور دوسری بات یہ کہ ہم عمر ساتھی ہمیشہ ان کا ادب و احترام کرتے تھے اور یہ خود اپنے ہم عمر اور اپنے سے کم عمر ساتھیوں سے ’’آپ‘‘ ، ’’جناب‘‘ کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔ کبھی ایسا کوئی کھیل نہیں کھیلا جو اخلاق کے منافی ہو۔‘‘
ایک مرتبہ کسی بات پر بھائی نثار علی صاحب سے حضور بابا صاحب کی طبیعت میں تکدّر پیدا ہوگیا۔ کئی مہینے تک ایک دوسرے سے ملاقات نہیں ہوئی۔ اسی اثناء میں عید آگئی۔ عید کے مبارک و مسعود موقع پر جناب بھائی نثار علی صاحب حضور بابا صاحب ؒ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضور بابا صاحب ؒ انہیں دیکھ کر کھِل اٹھے اور نہایت اخلاق اور خندہ پیشانی کے ساتھ بھائی نثار علی صاحب کی پذیرائی کی اور گلے مل کر اس قدر روئے کہ چہرہ آنسوؤں سے بھیگ گیا۔ بھائی نثار علی صاحب فرماتے ہیں:
اس روز میرے اندر گداز کی ایسی کیفیت پیدا ہوئی کہ میری آنکھوں سے اشکوں کا سیل رواں ہوگیا۔ اور میں اس قدر رویا کہ زندگی میں کبھی اتنا نہیں رویا۔ نہ شکوہ نہ شکایت۔ اس کے بعد ہماری دوستی بد ستور قائم ہوگئی ۔ اس واقعہ کے بعد ستر سال تک محمد عظیم برخیاؔ رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ دوستی کا شرف حاصل رہا۔ پاکستان بننے کے بعد جب میں کراچی آگیا تو بھائی صاحب ؒ کا یہ معمول رہا کہ وہ ہفتے میں ایک روز میرے غریب خانے پر تشریف لاتے تھے۔ یہ معمول اس وقت ٹوٹا جب وہ صاحب فراش ہوگئے اور چلنے پھرنے کے قابل نہ رہے ۔ مجھ سے فرمایا:
’’بھائی ! اب میں چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہا ہوں۔ آپ آجایاکریں۔‘‘
بھائی صاحب کی عظمت و شان کا کیا تذکرہ کروں کہ اکثر و بیشتر ایسا بھی ہوا کہ سخت بخار چڑھا ہوا ہے اور وہ وقت مقررہ پر میرے غریب خانے پر تشریف لے آئے اور طبیعت کتنی ہی خراب کیوں نہ ہوئی بھائی صاحب قبلہ ؒ کبھی بھی میرے گھر آکر لیٹے نہیں۔ ایک مخصوص نشست گاہ پر وقت مقررہ تک تشریف رکھتے تھے اور واپس ہوجاتے تھے۔

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠حوالۂِ کتاب یا رسالہ : تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

یہ مضمون چھپی ہوئی کتاب یا رسالہ میں صفحہ نمبر 32 سے 33تک ہے۔

اس سلسلے کے تمام مضامین :

تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ
    ِ انتساب ، ِ 1 – پیش رس ، ِ 2 – حالات زندگی ، ِ 3 – قلندر ، ِ 4 – قلندری سلسلہ ، ِ 5 – تعارف ، ِ 6 – جائے پیدائش ، ِ 7 – تعلیم و تربیت ، ِ 8 – روحانی تربیت ، ِ 9 – درونِ خانہ ، ِ 10 – روزگار ، ِ 11 – بیعت ، ِ 12 – مقام ولایت ، ِ 13 – اخلاق حسنہ ، ِ 14 – بچپن اور شباب ، ِ 15 – اوصاف حمیدہ ، ِ 16 – عظمت ، ِ 17 – صلبی اولاد ، ِ 18 – تصنیفات ، ِ 19 – کشف وکرامات ، ِ 20 – کبوتر زندہ ہوگیا ، ِ 21 – گونگی بہری لڑکی ، ِ 22 – موسلادھار بارش ، ِ 23 – میں نے ٹوکری اٹھائی ، ِ 24 – مہر کی رقم ، ِ 25 – فرشتے ، ِ 26 – مشک کی خوشبو ، ِ 27 – ایثار و محبت ، ِ 28 – چولستان کا جنگل ، ِ 29 – ہر شئے میں اللہ نظر آتا ہے ، ِ 30 – زمین پر بٹھادو ، ِ 31 – جِن مرد اور جِن عورتیں ، ِ 32 – پیش گوئی ، ِ 33 – درخت بھی باتیں کرتے ہیں ، ِ 34 – لعل شہباز قلندر ؒ ، ِ 35 – صاحب خدمت بزرگ ، ِ 36 – فرشتے حفاظت کرتے ہیں ، ِ 37 – سٹّہ کا نمبر ، ِ 38 – بیوی بچوں کی نگہداشت ، ِ 39 – نیلم کی انگوٹھی ، ِ 40 – قلندر کی نماز ، ِ 41 – وراثتِ علم لدنّی ، ِ 42 – مستقبل کا انکشاف ، ِ 43 – اولیاء اللہ کے پچیس جسم ہوتے ہیں ، ِ 44 – فرائڈ اور لی بی ڈو ، ِ 45 – جسم مثالی یا AURA ، ِ 46 – آپریشن سے نجات ، ِ 47 – کراچی سے تھائی لینڈ میں علاج ، ِ 48 – ایک لاکھ روپے خرچ ہوگئے ، ِ 49 – پولیو کا علاج ، ِ 50 – ٹوپی غائب اور جنات حاضر ، ِ 51 – زخم کا نشان ، ِ 52 – بارش کا قطرہ موتی بن گیا ، ِ 53 – جاپان کی سند ، ِ 54 – اٹھارہ سال کے بعد ، ِ 55 – خون ہی خون ، ِ 56 – خواجہ غریب نواز ؒ اور حضرت بوعلی شاہ قلندر ؒ ، ِ 57 – شاہ عبدالطیف بھٹائیؒ ، ِ 58 – میٹھا پانی کڑوا ہوگیا ، ِ 59 – پیٹ میں رسولی کا روحانی علاج ، ِ 60 – خرقِ عادت یا کرامت ، ِ 61 – ارشادات ، ِ 62 – انسان کا شعوری تجربہ ، ِ 63 – زمان ماضی ہے ، ِ 64 – ماضی اور مستقبل ، ِ 65 – حواس کیا ہیں ؟ ، ِ 66 – اپنا عرفان ، ِ 67 – اسرارِ الٰہی کا بحر ذخّار ، ِ 68 – دربار رسالت ؐ میں حاضری ، ِ 67 – کُن فیَکون ، ِ 68 – مکتوبِ گرامی ، ِ 69 – ہزاروں سال پہلے کا دور ، ِ 70 – سورج مرکز ہے، زمین مرکز نہیں ، ِ 71 – فرائڈ کا نظریہ ، ِ 72 – علم مابعد النفسیات ، ِ 73 – مابعد النفسیات اور نفسیات ، ِ 74 – تصنیفات ، ِ 75 – رباعیات ، ِ محرم نہیں راز کا وگر نہ کہتا ، ِ اک لفظ تھا ، اک لفظ سے افسانہ ہوا ، ِ معلوم نہیں کہاں سے آنا ہے مرا ، ِ مٹی میں ہے دفن آدمی مٹی کا ، ِ نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا ، ِ اک جُرعہ مئے ناب ہے ہر دم میرا ، ِ جس وقت کہ تن جاں سے جدا ٹھیر یگا ، ِ اک آن کی دنیا ہے فریبی دنیا ، ِ دنیائے طلسمات ہے ساری دنیا ، ِ اک جُرعہ مئے ناب ہے کیا پائے گا ، ِ تاچند کلیساو کنشت و محراب ، ِ ماتھے پہ عیاں تھی روشنی کی محراب ، ِ جو شاہ کئی ملک سے لیتے تھے خراج ، ِ کل عمر گزر گئی زمیں پر ناشاد ، ِ ہرذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند ، ِ آدم کو بنایا ہے لکیروں میں بند ، ِ ساقی ترے میکدے میں اتنی بیداد ، ِ اس بات پر سب غور کریں گے شاید ، ِ یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر ، ِ اچھی ہے بری ہے دہر فریاد نہ کر ، ِ ساقی ! ترا مخمور پئے گا سوبار ، ِ کل روز ازل یہی تھی میری تقدیر ، ِ ساقی ترے قدموں میں گزرنی ہے عمر ، ِ آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بے کار ، ِ حق یہ ہے کہ بیخودی خودی سے بہتر ، ِ جبتک کہ ہے چاندنی میں ٹھنڈک کی لکیر ، ِ پتھر کا زمانہ بھی ہے پتھر میں اسیر ، ِ مٹی سے نکلتے ہیں پرندے اڑ کر ، ِ معلوم ہے تجھ کو زند گانی کا راز ؟ ، ِ مٹی کی لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس ، ِ ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش ، ِ ساقی کا کرم ہے میں کہاں کامئے نوش ، ِ 76 – وصال ، ِ 77 – خانقاہ عظیمیہ ، ِ 78 – عرس مبارک ، ِ 79 – سلسلۂ عظیمیہ کاتعارف اوراعزاض و مقاصد ، ِ 80 – رنگ ، ِ 81 – سنگ بنیاد ، ِ 82 – خانواَدۂ سلاسل ، ِ 83 – رنگ ، ِ 84 – اغراض و مقاصد ، ِ 85 – قواعد و ضوابط