زمرہ جات: خواب اور تعبیر

عبدالقیوم عظیمی صاحب ۱۹۶۳ ع

عبدالقیوم عظیمی صاحب نے 1963ء میں ڈھاکہ سابقہ مشرقی پاکستان اور موجودہ بنگلہ دیش سے  حضور قلندر بابا اولیاؒء کی خدمت میں یکے بعد دیگرے دو خط ارسال کئے۔ ان دونوں خطوط کا جواب حضور بابا صاحبؒ نے ایک ہی خط میں ارشاد فرمایا۔

ذیل میں عبدالقیوم عظیمی صاحب کا ارسال کردہ خط اورحضور بابا صاحبؒ کا جواباً مکتوب گرامی پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جارہی ہے۔

رفیع الشان ، صاحب جمال ، پیر و مرشد یا سیدی ،
ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء !

بندہ خدمت بابرکت میں سجدہء غلامی پیش کرتا ہے۔

السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ

عرض خدمت عالی یہ ہے کہ آج کل میں صبح دس پندرہ منٹ کلام پاک کا ترجمہ پڑھ رہا ہوں اور اس پر کچھ غور بھی کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس طرح دو باتیں ایسی سامنے آئی ہیں جو کہ تشریح طلب ہیں۔ ان پر غور کرنے سے کچھ سمجھ نہیں آسکی۔ برائے کرم ان پر روشنی ڈال کر مشکور فرمائیں تاکہ بات ذہن میں آسکے۔

۱۔ اللہ تعالیٰ نے کلام پاک میں اکثر نماز کے قائم کرنے پر زور دیا ہے پھر کئی جگہ یہ بھی حکم دیا ہے کہ میری بندگی کرو۔ رکوع کرو۔ اور سجدے کرو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ صبح و شام میرے نام کی تسبیح پڑھو۔ اب ذہن میں جو سوالات ہیں وہ یہ ہیں کہ ہمارے سامنے نماز کا جو نقشہ ہے یا جو ہم کو ذہن نشین کرایا گیا ہے یہ وہ ہے جو کہ آج کل نماز پڑھی جارہی ہے۔ اس عمل میں رکوع ، سجدہ اور تسبیح پڑھنا سب کچھ شامل ہے۔ جب سب عمل اس ایک ہی نماز میں شامل ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مختلف جگہوں پر الگ الگ عمل کے لئے حکم دیا ؟۔ اس سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو حکم دے رہے ہیں وہ اس موجودہ طرز عمل سے ضرور مختلف ہوگا۔ ( موجودہ طرز عمل سے میری مراد نماز سے ہے جو کہ ہم پڑھتے ہیں )۔ اگر وہ حکم اسی نماز سے متعلق ہے تو پھر اس کو مختف جگہوں پر مختلف احکامات کی شکل میں نازل کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ صرف نماز کے متعلق ہی حکم کافی تھا۔ ذہن اس کی کوئی تسلی بخش توجیہہ پیش نہیں کرسکا۔ اس لئے مؤدبانہ التماس ہے کہ اس پر روشنی ڈالیں۔ اس مسئلے نے عرصہ سے میرے ذہن میں انتشاری کیفیت پیدا کر رکھی ہے۔

 

۲۔ پارہ نمبر دس ، سورہ التوبہ ، آیت نمبر 36۔ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں …
” مہینوں کی گنتی اللہ کے پاس بارہ مہینے ہیں۔ اللہ کے حکم میں جس دن پیدا کیئے آسمان و زمین ان میں چار ہیں  ادب کے یہی ہے سیدھا دین سو اس میں ظلم نہ کرو اپنے اوپر اور لڑو مشرکوں سے ہر حال جیسے وہ لڑتے ہیں تم سے ہر حال۔ اور جانو کہ اللہ ساتھ ہے ڈر والوں کے۔ ”

برائے کرم اس آیت کی مفصل تشریح فرمادیں۔ اللہ تعالیٰ جو فرماتے ہیں کہ … اللہ کے حکم میں جس دن پیدا کئیے آسمان و زمین ان میں چار ہیں ادب کے  ” …  اس کا کیا مفہوم ہے ؟ اس کی کچھ سمجھ نہیں آسکی کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد کن مہینوں کی طرف ہے اور اللہ تعالیٰ کیا فرماتے ہیں ، کن ادب والے مہینوں کا ذکر ہے ؟  ان میں کیا افضلیت ہے ؟

عبدالقیوم عظیمی۔ ڈھاکہ .. 1963۔9۔ 19

جواب

1D ،1/7  ناظم آباد۔ کراچی نمبر۔ 18

مورخہ 13 اکتوبر 1963

بردار بجان برابر

السلام علیکم

 

ہم لوگ آپ کے لئے دست بدعا ہیں۔ آپ کا مرسلہ منی آرڈر مبلغ پچاس روپے کا وصول ہوگیا۔ اطلاعاً عرض ہے۔ میں نے آپ کے دونوں خطوط نمبر 55 اور56  مرشد کریم  حضور قلندر بابا اولیاؒء کو پڑھ کر سنائے۔ حضرت نے جواب میں جو کچھ ارشاد فرمایا من و عن تحریر کر رہا ہوں۔

کوئی فکر نہ کیجئے انشاء اللہ صحت از خود ٹھیک ہوجائے گی۔ چند روز علی الصبح معمولی گرم پانی میں ہلکا نمک ڈال کر غرارے کرلیا کریں۔ بالکل نہار منہ ، غراروں کے ایک گھنٹہ کے بعد یا کم از کم آدھے گھنٹہ کے بعد ناشتہ اور چائے وغیرہ نوش کریں۔ بعض اوقات جسم میں کیمیاوی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ یہ ذہن نشین کرنا ضروری ہے کہ کیمیاوی تبدیلیاں یا روشنیوں میں تبدیلیاں ایک ہی بات ہے۔ گویا جسمانی تبدیلیاں کیمیاوی تبدیلیاں کہلاتی ہیں۔ اور روح میں تبدیلیاں روشنیوں کی تبدیلیاں سمجھی جاتی ہیں ۔ بات ایک ہی ہے۔ معانی میں کوئی فرق نہیں صرف طرز بیان کا فرق ہے۔ جب ہم محسوسیت کی زبان میں بات کرتے ہیں تو جسم کہتے ہیں۔ دراصل کوئی محسوس اور غیر مرئی محسوس ایک ہی چیز ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح روح اور جسم ایک ہی چیز ہے۔ جب حواس عمل کرتے ہیں تو محسوس دنیا زیر بحث آتی ہے اور جب ورائے کائنات کی قوت جس کو ذات بھی کہتے ہیں عمل کرتی ہے تو ذہن اور فکر ، خیال وغیرہ وغیرہ کام کرنے والے سمجھے جاتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ روح دو دائروں میں کام کرتی ہے۔ ٹھوس اور محسوس طرز پر۔ غیر مرئی اور غیر محسوس طرز پر۔ چنانچہ ہم ایک کو محسوس دنیا اور دوسری کو غیر محسوس دنیا سمجھتے ہیں۔ ساتھ ہی غیر محسوس دنیا ہمارے نزدیک ناقابل اعتبار ہے۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے۔

دونوں قابل اعتماد بھی ہیں اور ناقابل اعتماد بھی۔ جہاں تک ہماری فکر صحیح کام کرتی ہے یعنی ہم فکر سے صحیح کام لیتے ہیں وہاں تک دونوں قبل اعتماد ہیں۔ انحصار ہماری اپنی غلط یا صحیح طرز فکر پر ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہی بات سکھائی ہے۔ اسی چیز کی وضاحت کی ہے۔ اور یہی تعلیم دی ہے ۔

وحی کا منشاء یہ ہے کہ انسان صحیح طرز فکر اختیار کرنے کے لائق ہوجائے۔ آپ نے مراقبہ کی ایک کیفیت میں مختلف آوازوں کا تذکرہ کیا ہے۔ دراصل یہ آوازیں آنے والے طوفانوں کی تھیں۔کیمیاوی اور روحانی روشنیوں کی خاص تحریکات کی وجہ سے آپ کی سماعت نے ورائے صوت آوازوں کو سننا شروع کردیا۔ اور آئندہ پیش آنے والے واقعات کی آوازیں آنے لگیں۔ طبیعت میں لاشعوری طور پر ان آوازوں سےSENSATION پیدا ہوگیا۔ بالکل اس طرح جس طرح طوفان کو سامنے دیکھ کر SENSATION  پیدا ہوجاتا ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ جس SENSATION  کا انسان عادی نہیں ہوتا وہ اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اثر چند دن رہتا ہے پھر زائل ہوجاتا ہے۔ یہی آپ کے ساتھ کئی مرتبہ ہوا ہے۔ انشاء اللہ اس کا کوئی نقصان آپ کو نہیں پہنچتا۔ رفتہ رفتہ عادت پڑجائے گی۔ پھر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ نیز ورائے صوت آواز سنتے سنتے طبیعت دیکھنے بھی لگتی ہے۔ اور وہ منظر سامنے بھی آجاتا ہے۔

اسی حالت کا نام شہود ہے ۔

جب ان چیزوں پر عبور حاصل ہوجاتا ہے تو ارادہ کے ساتھ عمل ہونے لگتا ہے یعنی جس طرف توجہ مبذول ہوجاتی ہے اس سمت میں مستقبل کے حالات ، مستقبل کے مشاہدات آوازوں اور نگاہوں کے ذریعہ ذہن میں داخل ہونے لگتے ہیں۔

یہی کشف ہے۔

پھر ذات یا طبیعت جس چیز کو ناپسند کرتی ہے اس کو اپنی گرفت میں لے کر بدل ڈالتی ہے اور آنے والے مظاہر میں اسی قسم کی تبدیلیاں ہوجاتی ہیں۔ ذات اس لئے ردوبدل کرسکتی ہے کہ وسیع تر دائرہ میں عمل کرتی ہے۔اسی دائرہ میں جس میں قدرت عمل کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں نے انسان میں اپنی روح پھونکی وہ اسی صلاحیت کی طرف اشارہ ہے۔

جب یہ کیمیاوی یا شعاعی تبدیلیاں ہوتی ہیں تو طبیعت یک بیک ان کی عادی نہیں ہوتی۔ رفتہ رفتہ یہ چیزیں معمول بنتی ہیں۔ کچھ دن کے لئے ورائے حواس کا غلبہ ہوجاتا ہے۔ پھر یہ غلبہ کم ہوجاتا ہے۔ جب تک رد عمل برقرار رہتا ہے طبیعت اس کو نہیں دہراتی۔ پھر جب رد عمل ہوچکتا ہے تو دہرانے لگتی ہے اور ردعمل کے دوران طبیعت اور چیزوں سے گریز کرنے لگتی ہے اور تساہل پسندی کی طرف رجحان ہونے لگتا ہے۔معمولات میں فرق آجاتا ہے۔ کوشش کرکے معمولات کو برقرار رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ خود حفاظت کرتے ہیں۔ کوئی پریشن ہونے کی بات نہیں۔ سارے معمولات بحال ہوجائیں گے اور پہلی سی چستی اور مستعدی پیدا ہوجائے گی۔ ردعمل محض وقتی ہوا کرتا ہے۔ورائے حواس کی طرف جب میلان ہوتا ہے تو ہر وہ چیز زیادہ قریب ہوجاتی ہے جو ورائے حواس کی سطح سے تعلق رکھتی ہو۔ معصوم بچوں کے چہروں میں ورائے حواس کا عمل لاشعوری طور پر نظر آتا ہے۔ اس لئے طبیعت اس طرف کھنچتی ہے۔

موسیقی کے اندر آواز کے پردہ میں ورائے حواس کی سطح جنبش کرتی ہے۔ اسی لئے طبعیت اس طرف بھی کھنچتی ہے۔

 

پارہ سیقول رکوع نمبر6  کی پہلی آیت،

” لیس البر ان تولو وجوھکم  ” سے شروع ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ، ’مشرق کی طرف منہ کرنا یا مغرب کی طرف منہ کرنا نیکی نہیں ہے۔‘

یہاں غور طلب ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرق کی طرف منہ کرنا یا مغرب کی طرف منہ کرنا تو کہتے ہیں اور صرف ایک لفظ  صلوٰة استعمال نہیں کرتے۔ حالانکہ لفظ صلوٰة استعمال کرنا بہت سادہ اور مختصر طریقہ تھا۔ وجہ یہ ہے کہ اس طرز عمل کو اللہ تعالیٰ صلوٰة قرار نہیں دیتے۔

دوسرے موقع پر بالکل اسی طرح فرماتے ہیں،

’ رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ۔سجدہ کرو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ۔ ‘

وہاں بھی نہیں فرماتے کہ صلوٰة کرو صلوٰة کرنے والوں کے ساتھ ، جس کے واضح معنی یہ ہیں کہ رکوع اور سجود کو بھی اللہ تعالیٰ صلوٰة قرار نہیں دیتے ہیں۔ اب یہ سمجھنا لازم آگیا کہ صبح شام تسبیح کرنا ، رکوع و سجود کرنا یا مشرق و مغرب کی طرف منہ کرنا ہی صلوٰة نہیں ہے بلکہ صلوٰة پوری طرز زندگی کا نام ہے۔ ایسا طرز زندگی جو قرآن کے مطابق ہو کیونکہ صلوٰة کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ قائم کرنے کا لفظ استعمال کیا ہے۔ قائم کرو صلوٰة ،  قائم کرو صلوٰة ، قائم کرو صلوٰة۔ کہیں نہں فرمایا کہ پڑھو صلوٰة یا ادا کرو صلوٰة۔ البتہ اسی طرز زندگی میں صبح شام اللہ تعالیٰ کے نام کی تسبیح کرنا بھی شامل ہے۔ اگر کوئی صاحب چاہیں تو دن رات میں کئی مرتبہ اللہ کے نام کی تسبیح کریں بشرطیکہ صلوٰة کے سارے اجزاء کی تکمیل کرلی ہو اور صلوٰة کی ساری ذمہ داریاں پوری کردی ہوں جو پوری زندگی کو محیط ہوں۔

ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تسبیح کو رکوع ، سجود اور قیام تین حالتوں پر تقسیم کردیا ہے۔ یعنی میرے سامنے کھڑے ہو۔ اور میری عظمت کا اعتراف کرو۔ جھک جاؤ اور میری عظمت کا اعتراف کرو۔ سجدہ کرو اور میری عظمت کا اعتراف کرو۔ لیکن یہ صلوٰة کا صرف ایک جزو ہے۔

 

سورہ التوبہ آیت نمبر 36 کو سمجھنے کے لئے چند باتیں ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔ یہ باتیں قرآن سے باہر نہیں ہیں۔ قرآن میں ان کا تذکرہ موجود ہے۔ جہاں کہیں جس چیز کا تذکرہ آیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کے اوپر روشنی ڈالی ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ نے کائنات کو ارض و سماء دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔
سورہ الحجر آیت نمبر 10  سے 23  تک مطالعہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ لوگوں کی یہ پرانی عادت ہے کہ جب کوئی ہمارا قاصد ان کے پاس پیام لے کر جاتا ہے تو اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ان لوگوں کی بے یقینی کا تو یہ عالم ہے کہ اگر ہم آسمانوں کے دروازے کھول دیں اور ان کو چڑھنے کے لئے زینہ مل جائے پھر یہ سارے دن چڑھتے رہیں مگر یہی کہے جائیں گے کہ ہماری نگاہ پر جادو کردیا ہے۔ ہم تو نظر بندی میں مبتلا ہوگئے ہیں۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم نے آسمانوں کے الگ الگ حصے کردیئے ہیں اور ان کو مختلف طرزوں پر آباد کیا ہے البتہ اس آباد کاری کو نظر والے ہی دیکھ سکتے ہیں اور جو شیطان مردود بے یقین ہیں ان کی نگاہ سے ان آبادیوں کو مخفی کردیا ہے۔  یہ ان بستیوں کو دیکھ نہیں سکتے لیکن جو لوگ چور دروازوں سے ان آسمانوں میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں آگ کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

 

ہم نے زمین کو  TENSOR CALCULUS  بنایا ہے یعنی غبارے کی طرح اس کے اندر ہوا بھر دی ہے ایسی ہوا جو محسوسیت کی حد سے باہر ہے اور اس کے اندر کشش ثقل GRAVITY پیدا کردی ہے یعنی مختلف اور معین پریشر ڈال دیا ہے۔چنانچہ اسی پریشر کی مناسبت سے ہم نے زمین کی حدود میں متعین اور مختلف روئیدگیاں پیدا کردی ہیں ( روئیدگیوں سے مراد نباتات ، جمادات ، حیوانات ہیں ) ساتھ ہی ساتھ معین روئیدگیاں ایک دوسرے کے لئے معاش ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ تو تمہیں معلوم ہے کہ معاش تم نہیں دیتے ہو ہم دیتے ہیں۔ اس لئے کہ معاش کے ذرائع ہم نے پیدا کئے۔ ہمارے ہی پاس ہر چیز کے خزانے ہیں جن کی تقسیم کا طریقہ ہم ہی جانتے ہیں۔یہ طرزیں بہت ہیں جن کو تم بھی محسوس کرسکتے ہو مثلاً ان ہواؤں کو تم محسوس کرتے ہو جن میں LIFE STREAM  ہے یعنی ماء جو ہم آسمانوں سے نازل کرتے ہیں۔ یہ وہی ماء ہے جو تمہارے لئے حیات بنتا ہے۔ تمہارے پاس اس LIFE STREAM یعنی ماء کا کا کوئی خزانہ نہیں ہے۔ ہم اسی LIFE STREAM  کو دے کر زندہ کردیتے ہیں اور جب واپس لیتے ہیں تو آدمی مرجاتا ہے۔

 

اور ہم ہی ہیں جو ان معاملات میں تمہاری سرپرستی کرتے ہیں۔ تمہارے کاموں کو پورا کرتے ہیں اور تمہاری چیزوں کو سرانجام تک پہنچاتے ہیں۔ مذکورہ آیات کی روشنی میں آسمانوں اور زمین کے وقفوں میں اللہ تعالیٰ نے معین طرزوں کی تقسیم کی ہے۔ انہی وقفوں کی حسب ذیل وضاحت کی ہے۔

 

سورہ التوبہ آیت نمبر36۔ ہم نے زمین آسمان بناتے وقت ہی ان کے اندر بارہ مہینوں کی ترتیب رکھ دی تھی۔ یعنی ردوبدل ریکارڈ کردیا ہے جو ہمارے ہی قبضے میں ہے۔ کوئی دوسرا ان میں گھٹا کر یا بڑھا کر آثار و احوال میں تبدیلی نہیں کرسکتا۔ یہی مستقل طرزیں ہیں۔ گویا اللہ کی غیر مبدّل سنّت۔ جو قائم اور جاری ہے۔

انہی مہینوں میں وہ چار مہینے ہیں جو آثار و احوال کی مناسبت سے قابل لحاظ ہیں۔ پہلا مہینہ اور آخر مہینہ۔ اور دو درمیان کے مہینے شعبان اور رمضان۔ ان چار مہینوں کے آثار و احوال یہ ہیں کہ شعبان اور رمضان میں پورے سال کے انتظامات کی PLANNING  کی جاتی ہے۔ ذوالحجہ اور محرم میں اس PLANNING  کی جانچ پڑتال ہوتی ہے۔ ان ہی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ گھٹانے بڑھانے والوں کی بات مت مانو۔ یہ لوگ جو ہر چوتھے سال کو بارہ مہینے کی بجائے تیرہ مہینے کا سال کردیتے ہیں ناقابل اعتماد ہے۔ ان کے طرز عمل کا اتباع مت کرو۔ یہ تم سے تعاون نہیں کرتے تم ان سے تعاون نہ کرو۔ اگر تم ان کے ایسے اقدامات کا ساتھ دو گے جو تمہارے لئے مضر ہیں تو اپنے اوپر ظلم کرو گے۔

 

اس خط کے بعد آپ کا دوسرا خط 8 اکتوبر 1963ء  کا تحریر کردہ موصول ہوگیا۔

 

خوابوں کی تفصیل حسب ذیل ہے۔

کائنات میں ہر چیز کی ذات ہے اور وہی حقیقی ہے۔ خواہ وہ ذرہ میں ہو یا انسان میں۔ اس کی دو طرزیں ہیں۔ ایک طرز فکر محسوسیت کے دائرہ میں عمل کرتی ہے اور دوسری ورائے محسوسیت میں یا حقیقت میں عمل کرتی ہے۔حقیقت میں جو عمل ہے وہی فعال ہے۔ وہی تخلیق کرتا ہے۔ اس کی تخلیقات کس قدر ہیں اس کی تفصیلات تمام قرآن پاک میں جا بجا بکھری ہوئی ہیں۔ جب قرآن پاک پڑھیں تو تھوڑا سا پڑھیں اور بہت غور و فکر کے ساتھ پڑھیں یعنی زیادہ سے زیادہ وقت لگا کر۔کبھی یہ خیال نہ کریں کہ جو کچھ معانی علم لدنی سے ناواقف علماء حضرات نے لکھ دیئے ہیں وہ کافی اور وافر ہیں۔ وہ اکثر قیاسی ہیں۔ چونکہ قیاسی ہیں اس لئے غلط ہیں۔ اگر صحیح ہیں تو ناکافی ہیں۔زیادہ تر عربی کے الفاظ جو اردو میں بڑی حد تک مانوس ہیں آپ انہی کی حدود میں اور انہی کی گہرائی میں غور کرنے کی عادت ڈالیں تو علماء حضرات کے کیئے ہوئے معانی پر انحصار کرنا نہیں پڑے گا۔

اب محسوسیت کا مسئلہ باقی رہا۔ یہ زوائد میں سے ہے۔ اس کی تشریح مختصراً اس طرح کی جا سکتی ہے کہ جس صلاحیت کو آپ DEVELOP  کرلیں اور جتنا کرلیں اتنا کام کرتی ہے۔ فی الواقع SIDE کی چیز ہے۔ کوئی حقیقی چیز اور اصل چیز نہیں ہے۔ چنانچہ یہی چیز دیکھنے میں آتی ہے۔ جو شخص انجینئر ہونا چاہے ہوجاتا ہے اور جس درجہ کا ہونا چاہے ہوجاتا ہے۔ اگر بہت کوشش کرے تو بہت اچھا ہوجائے گا نہیں تو معمولی فنکار رہ جائے گا۔ اس طرح آدمی اپنی صلاحیتوں کی حقیقت اور مکمل کارکردگی سے بےخبر رہتا ہے۔ وہ اپنی ذات کا کوئی جائزہ نہیں لے سکتا۔ یہ نہیں جان سکتا کہ اس کی ذات کہاں تک محیط ہے۔ یہ انسان کی سب سے بڑی محرومی ہے کہ اس نے محسوسیت کو MEDIUM بنا رکھا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ اسے استعمال کرے اور جتنا زیادہ چاہے استعمال کرے۔ البتہ یہ بہت بڑا سقم ہے کہ وہ اس پر ہی اپنی ذات کو منحصر کردے۔ جب ذات کو محسوسیت پرمنحصر کر دیا جائے گا تو ذات بالکل معطل ہوجائے گی اور انسان محسوسیت کے ہاتھوں کھلونا بن جائے گا۔ اب محسوسیت کھلونے کو توڑ دے یا محفوظ رکھے یہ اس کی مرضی ہے۔ فی الواقع غلامی کو ساری دنیا برا سمجھتی ہے لیکن تمام نوع انسانی نے محسوسیت کی غلامی کا طوق فخریہ اپنے گلے میں پہن رکھا ہے۔

خواب اور خیال سے فائدہ نہ اٹھانے کا اصل سبب یہی ہے۔
بات یہ ہے کہ خواب ورائے  محسوسیت سے تعلق رکھتا ہے اس لئے اسے محسوسیت ناپسند کرتی ہے اور جب یہ انسان کی زندگی میں داخل ہونا چاہتا ہے بالکل اسی طرح جس طرح بیداری کا عمل داخل ہوتا ہے تو محسوسیت ہر طرح کی رکاوٹ ڈالنے لگتی ہے۔اور ہر دروازہ میں دیوار بن کر کھڑی ہوجاتی ہے تاکہ ورائے محسوسیت عملی زندگی میں داخل نہ ہوسکے۔ انسان  محسوسیت کے ذریعے ہی کسی چیز کو دیکھتا ، سنتا ، سمجھتا ہے۔ چنانچہ جب ورائے محسوسیت کے ذریعہ کوئی چیز زندگی میں داخل ہونا چاہتی ہے تو محسوسیت اس چیز کی صورت مسخ کردیتی ہے۔پھر یہ ہوتا ہے کہ انسان اس کے قریب جانے کی بجائے اس سے دور بھاگتا ہے اور وہ چیز COMMON SENSE  نہیں رہتی بلکہ PROPER SENSE  بن جاتی ہے۔ کامن سینس کا مطلب یہ ہے کہ سب انسان اس کو دیکھیں ، چھوئیں اور یکساں طریقہ پر سمجھیں۔اور پراپر سینس کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی اس کو دیکھ رہا ہے ، سمجھ رہا ہے ، چھو رہا ہے اور دوسرا شریک عمل نہیں ہے۔ یہاں سے ورائے محسوسیت کی قیمت ختم ہوگئی۔ اس لئے کہ نوع قیمت نہیں لگاتی۔ فرد قیمت لگاتا ہے۔ فرد کا قیمت لگانا کوئی معنی نہیں رکھتا۔

اس کے علاوہ یہ بھی ہوا کہ فرد کی نگاہ میں بھی  محسوسیت نے ورائے محسوسیت کی شکلیں مسخ کرکے پیش کیں تاکہ وہ سمجھے کہ یہ بات واقعاتی نہیں تھی فضول تھی۔ اس پر اعتماد نہ کرے اور فائدہ نہ اٹھا سکے۔ اندازہ لگایئے جو خواب انسان دیکھتا ہے اور جو خیال انسان کے ذہن میں آتا ہے وہ کس قدر مسخ اور کتنا بگڑا ہوا ہوتا ہے۔

جس گمشدہ نوجوان کے بارے میں آپ نے معلوم کیا ہے ، وہ یورپ میں ہے ، زندہ ہے لیکن اس کے مالی حالات اچھے نہیں۔ غالباً وہ اگلے سال تک وطن واپس آجائے گا۔ اس نے گھر سے جس طرح کی لاتعلقی اختیار کرنا چاہی تھی وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ یہی اسباب اس کو وطن واپس لے آئیں گے۔ آپ اتنی ہی بات ان حضرات کو بتادیں۔
درجہ بدرجہ سب کو سلام و دعا۔

قلندر حسن اخریٰ محمّد عظیم برخیا۔
مرشد کریم حضور حسن اخریٰ محمّد عظیم برخیاقلندر بابا اولیاء ابدال حق خیریت سے ہیں۔ اور آپ کے لئے دعا فرماتے ہیں۔

احمد شمس الدین عظیمی

63۔ 10۔ 13

بخدمت جناب عبدالقیوم عظیمی صاحب

مولوی بازار۔ ڈھاکہ۔ ( مشرقی پاکستان )

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠حوالۂِ کتاب یا رسالہ : روحانی ڈائجسٹ جنوری ۱۹۸۷ اور فروری ۱۹۹۲ِِ

اس سلسلے کے تمام مضامین :

مکتوبات گرامی