زمرہ جات: تفسیر

قرآن میں تفکر

ترجمہ : اور ہم نے قرآن کو سمجھنا آسان کردیا ہے۔ ہے کوئی سمجھنے والا ؟ (سورۂ القمر)

 

ہم نے قرآن کو سمجھنا آسان کردیا تو ہے کوئی سمجھنے والا ، اس میں کسی جگہ یہ شرط نہیں کہ مخاطب عربی جانتا ہو یا اس نے عربی پڑھی ہو۔ اس کے معنی بہت ہی سادہ ہیں کہ چاہے وہ کسی بھی ملک کا رہنے والا ہو ، چاہے اس کی مادری زبان کوئی بھی ہو ، چاہے اس نے عربی کا ایک لفظ بھی نہ سنا ہو ، اللہ تعالیٰ نے قرآن کے معنی ضمیر کے ذریعہ اس کے لئے صاف کردیئے ہیں۔

 

اس کے معنی یہ ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ذہن میں وہ باتیں ڈال دیتا ہے جو انسانیت کے مطابق ہیں۔ یہ اس کا باطن ہے۔ ایسا نہیں سمجھنا چاہیئے کہ قرآن پاک عربی جاننے والوں کے لئے یا صرف مسلمانوں تک محدود ہے۔ اس لئے کہ بہت سارے ایسے مسلمان ملیں گے جو عربی کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے مگر ان کا دھیان اس ان دیکھی طاقت کی طرف جاتا ہے جس کی وہ عبادت کرتے ہیں ، جسے وہ مانتے ہیں ، جسے وہ خدا کہتے ہیں ، جسے وہ اپنا باطن سمجھتے ہیں یا جسے وہ اپنے ضمیر کی آواز کہتے ہیں با الفاظ دیگر جسے وہ کبھی Self کہتے ہیں ، جس سے وہ خود کو چھپا نہیں سکتے اور جسے وہ حاضر و ناظر کہتے ہیں۔

 

قدم بقدم اللہ تعالیٰ انہیں ان کے ضمیر کے ذریعے سمجھاتا ہے کہ یہ افعال انسانی ہیں یا غیر انسانی ہیں۔ اگر انسان وہ آواز نہیں سنتا اور اس کی پرواہ نہیں کرتا تو وہ شخص سجین میں اپنا گھر بناتا ہے۔ پہلے وہ ادنیٰ میں آیا یعنی عالم ناسوت میں آیا پھر زیادہ ادنیٰ میں چلا گیا یعنی سجین میں چلا گیا۔ ظاہر ہے کہ سجین سے سب راستے سجین میں ہی کھلتے ہیں ، علیین میں کھل نہیں سکتے۔

مصنف :

⁠⁠⁠حوالۂِ کتاب یا رسالہ : روحانی ڈائجسٹ جنوری ۲۰۰۳ِِ

اس سلسلے کے تمام مضامین :

قرآنی آیات کی تفسیر