تذکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

خواجہ شمس الدین عظیمی

موسلادھار بارش

حضورقلندر بابا اولیاء ؒ کا معمول تھا کہ ہفتے کے روز شام کے وقت وہ اپنے گھر جاتے تھے اور اتوار کی شام واپس تشریف لے آتے تھے۔ ایک مرتبہ اتوار کے روز مغرب سے کچھ پہلے بارش شروع ہوگئی ، شدید اور موسلادھار بارش۔ میں نے یہ سوچ کر کہ بارش بہت تیز ہے اور حضور …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

میٹھا پانی کڑوا ہوگیا

ایک دفعہ حضورقلندر بابا اولیاءؒ روشنی کی لہروں کے اتار چڑھاؤ، لہروں کے ردّوبدل اور لہروں کی مقداروں میں کمی بیشی سے قانون تخلیق کی وضاحت فرمارہے تھے۔ آپ یہ بتارہے تھے کہ مقداروں کے ردّوبدل سے تخلیق میں تبدیلی واقع ہوجاتی ہے اور کائنات میں موجود ہرشئے ا …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

میں نے ٹوکری اٹھائی

ایک رات تقریباً ساڑھے گیارہ بجے کا وقت تھا کہ بابا صاحب ؒ نے ارشاد فرمایا ۔’’مچھلی مل جائے گی؟‘‘ میں نے عرض کیا۔’’حضور ! ساڑھے گیارہ بجے ہیں ۔ میں کوشش کرتا ہوں کسی ہوٹل میں ضرور ملے گی۔‘‘ بابا صاحب ؒ نے فرمایا۔’’نہیں ، ہوٹل کی پکی ہوئی مچھلی میں نہیں …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا

نہروں کو مئے ناب کی ویراں چھوڑا پھولوں میں پرندوں کو غزل خواں چھوڑا افتاد طبیعت تھی عجب آدم کی کچھ بس نہ چلا تو باغ رضواں چھوڑا اس آدم یا آدم زاد کی صفات نہ پوچھئے۔ اس نے چمک دمک رکھنے والی شراب کی نہروں کو جنت میں ویران چھوڑ دیا۔ قسم قسم کے پھولوں اور …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, رباعیات, شعر و سخن

نیلم کی انگوٹھی

مجھے اپنے بابا جی قبلہؒ پر اتنا ناز تھا کہ شاید کسی کو ہو۔ جتنا یہ غلام ہمراز تھا، شاید کوئی نہ ہو۔ لطف و عنایت کی بارش جتنی اس عاجزومسکین پر فرماتے تھے، وہ خیال و تصور اور اظہار وبیان سے بالا ہے۔ ایک روز میں نے اس خواہش کا اظہا ر کیا کہ میں انگوٹھی پہ …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش

ہر چیز خیالات کی ہے پیمائش ہیں نام کے دنیا میں غم و آسائش تبدیل ہوئی جوخاک گورستاں میں سب کوچہ و بازار کی تھی زیبائش انسانی نگاہ کے سامنے جتنے مناظر ہیں وہ شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں۔ یہ تذکرہ ہوچکا ہے کہ دیکھنے کی یہ طرز مفروضہ ہے۔ اس لئے اس …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

ہر شئے میں اللہ نظر آتا ہے

ایک دفعہ آدھی رات کو میں حضور قلندر بابا ؒ کی کمر دبا رہا تھا او ر بابا صاحب ؒ قرآن پاک کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ حکمت مجھے سمجھا رہے تھے۔ بابا صاحب ؒ نے مجھ سے ارشادکیا کہ فلاں آیت پڑھو۔میں نے تلاوت کی۔ پھر فرمایا ’’ اس آیت کا سات بار ورد ک …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

ہرذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند

ہرذرّہ ہے ایک خاص نمو کا پابند سبزہ کہ صنوبر ہوکہ ہو سر و بلند انسان کی مٹی کے ہر ایک ذرّہ سے جب ملتا ہے موقع تو نکلتے ہیں پرند اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہم معین مقداروں سے تخلیق کی ہے۔ ہر تخلیق میں معین مقداریں کام کررہی ہیں جو ہر نوع کو دوسری نوع س …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, رباعیات, شعر و سخن

ہزاروں سال پہلے کا دور

ماہ پرستی اور ستارہ پرستی کے دور میں کہاگیا کہ زمین ٹھہری ہوئی ہے، سورج گردش کرتا ہے۔ یہ بہت پرانا دورتھا، ہزاروں سال پہلے کا دور۔ پھر ایک دور آیا ۔انجانی قوتوں سے ڈرا ہوا انسان کہنے لگا میری ساری گردشیں دیوتاؤں کی قوت سے سرزد ہوتی ہیں ۔ اس دور کے انسا …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, طرز تفہیم

وراثتِ علم لدنّی

ایک رات تہجد کی نماز کے بعد میں نے درود خضری پڑھتے ہوئے خود کو سیّدنا حضور سرورکائنات علیہ الصّلوٰۃ والسّلام کے دربار اقدس میں حاضر پایا۔ اور مشاہدہ کیا کہ حضور اکرم ؐ تخت پر تشریف فرماہیں۔ اس بندہ نے حضورؐ کے تخت کے سامنے دوزانوبیٹھ کر درخواست کی: یار …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, کشف و کرامات

وصال

وصال سے پیشتر حضور قلندر بابا اولیاء ؒ نے آٹھ ماہ تک چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک پیالی دودھ پر گزر کیا۔ اور تین روز پہلے کھانا اور پینا دونوں چھوڑ دیا۔جب بھی درخواست کی گئی کہ آپ اور نہیں کچھ تو پانی ہی پی لیں تو حضور ؒ نے ہاتھ کے اشارے سے منع فرمادیا۔ ای …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ

یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر

یہ بات مگر بھول گیا ہے ساغر انسان کی مٹی سے بنا ہے ساغر سوبار بنا ہے بن کے ٹوٹا ہے عظیم کتنی ہی شکستوں کی صدا ہے ساغر مورتیں ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہیں ۔ اے آدم زاد ! تو کیوں خود فراموشی کے جال میں گرفتار ہے ؟ یہ سب مٹی ہے جو ٹوٹ کر، بکھر کر، ریزہ ر …

مصنف : خواجہ شمس الدین عظیمی

⁠⁠⁠زمرہ : تزکرہ قلندر بابا اولیاءؒ, رباعیات, شعر و سخن

Previous